Tuesday, August 4, 2020
سنڈریلا آٹھویں نوویں دسویں قسط
ایک چھوٹی سی چیونٹی تھی جو زمین کو کھود کھود کر اپنا بل بنا رہی تھی
"میں بھی سرنگ بنا سکتی ہوں "
سنڈریلا بڑبڑائی
"لیکن کیسے؟؟"
سنڈریلا گہری سوچ میں پڑ گئی
"کہیں ایسا تو نہیں یہ لاٹھی میری مدد کرے "
سنڈریلا کا کہنا تھا کہ لاٹھی ایک سانپ میں بدل گئی اور سنڈریلا آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی
وہ سانپ زمیں کو کھودنے لگا اور تھوڑی دیر میں ایک سرنگ تیار تھی
سانپ دوبارہ سے لاٹھی میں بدل گیا
سنڈریلا نے سرنگ میں جھانکا وہ کافی نیچے جاتی تھی لیکن تھوڑی ترچھی تھی تاکہ سنڈریلا کے بدن کو چوٹ نہ لگے
سنڈریلا نے جونہی اندر پیر رکھا وہ نیچے ہی جاتی گئی
زیر زمین ایک جگہ وہ سرنگ ختم ہوگئی ہر طرف مٹی تھی
"اس طرف وہ مینار ہے "
سنڈریلا منہ میں بڑبڑائی
جونہی اس نے مٹی کو ہاتھ لگایا وہ مٹی کا ڈھیر ہٹ گیا اور ایک راستہ بن گیا یہ راستہ تہہ خانے کو جاتا تھا سنڈریلا اندر جانے لگی
دراصل جادوگروں کی طاقت زیر زمین کام نہیں کرتی (یہ صرف میرے ناولوں کا اصول ہے تلاطم ناول میں بھی یہی تصور تھا کہ اپلیس کی طاقت زمین کے نیچے کام نہی کرتی تلاطم ناول کی بھی پہلی قسط میرے پیج پر موجود تلاطم یعنی طوفان کا بیٹا ضرور پڑھیے گا )
تہہ خانے میں گپ اندھیرا تھا سنڈریلا کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا
"میری مدد کونسا اوزار کرے گا "
وہ سوچ میں پڑ گئی
"تینوں ہی "
وہ یک دم بولی تو تینوں چمکتے ہوئے فضا میں اڑنے لگے تو تہہ خانے میں روشنی ہوگئی
یہاں عجیب ہولناک منظر تھا
زمیں پر جگہ جگہ خون تھا اور انسانوں کی کھوپڑیاں اور ہڈیاں تھیں سنڈریلا پہلی بار ڈر گئی لیکن پھر اس نے خود کو سنبھالا اور چلنے لگی اسے ایک طرف سیڑھیاں دکھائی دیں
وی سیڑھیوں پر چڑھنے لگی اچانک اسے کسی کی آواز آئی کوئی رو رہا تھا
سنڈریلا ایک دم سے ڈر گئئ
............
گیارہ بج گئے تھے اچانک لیڈی ٹری مین کی آنکھ کھلی وہ اٹھی اور باہر کو گئی اور جاکر سنڈریلا کو پکارنے لگی
"سنڈریلا احمق لڑکی کہاں ہو سنڈریلا اج تم نے ہمیں بیدار نہیں کیا احمق سنڈریلا"
وہ اسے پورے گھر میں ڈھونڈ کر اس کے کمرے کی طرف گئی لیکن اندر کا منظر دہلا دینے کے لیے کافی تھا
۔۔۔۔
یہ کانچ کے ٹکرے تھے سنڈریلا ان کے پاس گئی کانچ کے ٹکرے بول رہے تھے
سنڈریلا ڈر گئی لیکن پھر کانپتی ہوئی بولی
"کککون ہو"
"مجھے سے مت ڈرو سنڈریلا "
"تت تم مجھے "
"ہاں میں تمہیں جانتا ہوں میں سب جانتا ہوں دراصل میں لوسی فر کا جادوئی آئینہ ہوں لوسی فر نے ہی میرا یہ حال کیا ہے اگر تم مجھے ٹھیک کردو تو میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں "
"لیکن میں کیسے مان لوں تم لوسی فر کی چال بھی ہوسکتے ہو "
سنڈریلا نے ڈرتے ہوئے کہا
"نہیں سنڈریلا مجھ پر بھروسہ کرلو "
پھر سنڈریلا کو آئینے نے سب کچھ بتایا
"تو اس لیے لوسی فر نے آپ کو توڑ دیا لیکن میں آپ کو ٹھیک کیسے کروں"
"تمہارے پاس جو صراحی اس کی بدولت ہی تم مجھے ٹھیک کرسکتی ہو "
سنڈریلا نے صراحی نکالی جو پانی سے بھری ہوئی تھی سینڈریلا نے سارا پانی آئینے کے ٹکروں پر انڈیل دیا تو وہ سارے ٹکرے ملنے لگے اور پھر ایک گول آئینہ بن گیا جس کی منہ اور آنکھیں بھی تھیں
"آآ پ "
"میں ایک جادوئی آئینہ ہوں "
"لیکن آپ میری مدد کیسے کروگے "
"میرے اندر ایک الگ دنیا ہے جہاں صرف میری ہی حکومت ہے وہاں لوسی فر کا جادو کام نہیں کرتا اگر تم لوسی فر کو کسی طرح میرے اندر بھیج دو تو "
"لیکن یہ سب کیسے ہوگا "
آئینہ ہوا میں اڑ رہا تھا
"لوسی فر اتنی بڑی جادوگرنی نہیں ہے بس دوسروں کو دکھاتی ہے ایسا اس کی حقیقت میں اچھی طرح جانتا ہوں
لوسی فر کو مینڈکوں سے نفرت ہے بس یہی مینڈک ہی "
"اوہ میں سمجھ گئی لیکن یہ مینڈک کیسے اور کہاں سے آئیں گے ؟؟"
٬"سنڈریلا تم میری دنیا میں جاکر مینڈک لا سکتی ہو "
"آآپ کی دنیا "
"ہاں میرے اندر چلی جاؤ ٬
"نہیں "
سنڈریلا ڈر گئی
"مجھ سے مت ڈرو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہیں کچھ نہیں ہوگا"
سنڈریلا کو نہ جانے کیوں آئینے پر بھروسا ہوگیا اور وہ آئینے کی طرف لپکی جونہی وہ آئینے کے قریب گئی ایک زور دار بھنور اسے آئینے کے اندر کھینچ کر لے گیا
...............
(آگے پڑھنے سے پہلے ایک اطلاع اگر آپ کی کوئی قسط مس ہوگئی ہے تو میری پروفائل سے مل جائے گی نیز جلدی قسط بھی آپ کو وہاں سے مل جائے گی )
"ڈریزیلا اینسٹیزیا ادھر آؤ یہ لڑکی ضرور اپنی ماں کی قبر پر ہوگی اپنے کمرے میں نہیں ہے "
لیڈی ٹری مین نے ڈریزیلا اینسٹیزیا سے کہا اور خود سنڈریلا کو پکارنے لگی
................
ہر طرف خوبصورت جنگل تھا اور اسے دور سے ایک ندی دکھائی دے رہی تھی سنڈریلا نے دیکھا تو ندی میں کچھ مینڈک تھے جو چہل مگوئیاں کررہے تھے
"میں ان مینڈکوں کو کیسے پکڑوں "
سنڈریلا سوچ میں پڑ گئی
"میری صراحی اور باقی اوزار تو ادھر رہ گئے "
اسی وقت سنڈریلا کی نظر فضا میں پڑی اس کے تینوں اوزار ادھر ہی تھے
"یہ سب کیسے"
"نہی یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے "
سنڈریلا نے صراحی کو تھام لیا تو وہ پانی سے بھر گئی اس نے صراحی کو ندی میں رکھا دیا ایک عجیب سا طوفان پانی میں آگیا اور سارے مینڈک صراحی می گئے
سنڈریلا بہت حیراں تھی اس نے صراحی کو تھام لیا اور جس طرف سے آئی تھی ادھر کو جانے لگی لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کہاں سے آئی ہے
اچانک اسے آئینے کی آواز آئی
"اس ندی میں چھلانگ لگاؤ سنڈریلا"
سنڈریلا نے ندی میں چھلانگ لگا دی
سنڈریلا نے خود کو اسی تہہ خانے میں سیڑھیوں کے پاس آئینے کے سامنے پایا م"ادھر دیکھو سنڈریلا "
آئینےنے اسے پکارا
تو سنڈریلا اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگی
"تمہاری ہمت کی میں داد دیتا ہوں کہ ایک اجنبی پر بھروسا کرلیا اور پھر اس کے کہنے پر اس کی دنیا میں گئی تم بہت بہادر کو سنڈریلا بالکل ویسی ہی "
"کیسی ہی"
"چھوڑو اس بات کو ابھی ہم نے لوسی فر کو ختم کرنا ہے لوسی فر جتنی طاقت ور خود کو ظاہر کرتی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے وہ محض ایک انسان ہے جسے دو چارمنتر آتے ہیں اگر وہ بڑی جادوگرنی ہوتی تو یہ جان چکی ہوتی کہ تم اس کے مینار میں ہو دراصل لوسی فر اگر پرنس سے بیاہ کرکے گی تو اس کی جادوئی طاقتیں بڑھ جائیں گی اور اج بارہ بجے ہی لوسی فر بیاہ کرے گی اور اب آدھا گھنٹہ بچا ہے اوپر شادی کی ساری تیاریاں ہوچکی ہیں "
آئینے نے کہا تو سنڈریلا کے ہوش اڑ گئے
"لیکن سنڈریلا تم بہت بہادر تم اس شادی کو روک سکتی ہو
"مم میں ایسا کیسے کرسکتی ہوں "
"دراصل اسے پرنس سے کوئی لگاؤ نہیں ہے اسے پرنس کا خون چاہیے اسے یہ کہا گیا تھا کہ اگر کسی شاہی خاندان کے فرد سے بیاہ رچا لے گی اور اس کے خون سے اپنی پیاس بجھائی گی تو اس کی طاقتیں بڑھ جائیں گی اور اسی لیے وہ"
"نہیں میں کک کبھی ایسا نہیں ہونے دوں گی "
سنڈریلا نے غصہ سے بھرے چہرے سے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنس چارمنگ کو لوسی فر نے ایک کرسی پر جادوئی رسیوں سے باندھ رکھا تھا یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جس میں ایک پلنگ تھا اور دوسری روز مرہ کی اشیاء تھیں
لوسی فر پرنس کے ارد گرد رقص کررہی تھی
"مجھے چھوڑ دو"
پرنس کراہتے ہوئے بولا
"تمہیں کیسے چھوڑ دوں تم میرے لیے سونے کی چڑیا ہو "
"کک کیا کہہ رہی ہو "
"صحیح سنا تم نے تم سونے کی چڑیا ہو ہاہاہا"
لوسی فر ہنسنے لگی تو پرنس سہم گیا
"میں ایک جادوگرنی یوں اور تم سے بیاہ کرکے اور پھر تمہارے خون کی بدولت میں اپنی طاقتوں میں اضافہ کرلوں گی اور سنو تمہیں اچھی مجھ سے شادی کرنی ہوگی "
"لللیکن"
"مجھے کچھ نہیں سننا"
شہزادے کا دل خوف سے پھٹنے لگا تھا
...........
"کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ پرنس کو لوسی فر سے چھڑا لیا جائے "
"ہاں کچھ تو کرنا ہوگا ابھی لوسی فر اپنے کمرے میں ہے اور وہیں اس نے پرنس کو باندھ رکھا ہے اور تھوڑی دیر میں ان کی شادی ہوجاتے گی "
"نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی "
تھوڑے دیر سوچنے کے بعد سنڈریلا
"میرے پاس ایک ترکیب ہے "
سنڈریلا نے کہا تو آئینے نے تجسس ظاہر کیا
پھر سنڈریلا اسے اپنی ترکیب بتانے لگی
............
(آگے پڑھنے سے پہلے ایک اطلاع اگر آپ کی کوئی قسط مس ہوگئی ہے تو میری پروفائل سے مل جائے گی نیز جلدی قسط بھی آپ کو وہاں سے مل جائے گی )
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے انکار کی لوسی فر کو انکار کیا "
لوسی فر نے غصے میں اپنی جادوئی چھڑی ہوا میں گھمائی تو پرنس کے گرد ایک جادوئی حصار بن گیا جو اسے کھینچ کر لوسی فر کے پاس لے گیا
"اب نہ چاہتے ہوئے بھی تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہوگی "
لوسی فر آگے چلنے لگی اور پرنس اس کے پیچھے کھینچنے لگا
"لیکن میں تمہیں یہ شادی نہیں کرنے دوں گی "
ایک آواز آئی کمرے کے باہر سے
"کون ہے ادھر جس نے مجھے للکارا "
لوسی فر غصے میں کمرے سے باہر گئی سنڈریلا نے آئینے کو پکڑا ہوا تھا اور صراحی میں مینڈکوں کو بھی اور وہ چھپے تھے جونہی لوسی فر باہر گئی سنڈریلا کے ہاتھ سے آئینہ نکل کر اندر چلا گیا جبکہ سنڈریلا وہیں رہی
لوسی فر کو جب کوئی نہ ملا تو اس کے چہرے پر خوف واضح دکھائی دے رہا تھا
"پرنس کو چھوڑ دو انجام بہت برا ہوگا "
سنڈریلا پکاری تو لوسی فر آواز کی سمت میں گئی تو اس کے سر پر زور سے سنڈریلا نے چھری ماری اور پیچھے ہٹ گئی
لوسی فر کو ایک نقاب پوش لڑکی دکھی اور دھرم سے زمیں پر گر گئی
پھر لوسی فر اٹھی اور نقاب پوش سنڈریلا کے پیچھے بھاگی
سنڈریلا اندر کمرے میں آگئی
پرنس نے اس کی آنکھوں کو دیکھا تو اسے وہی لڑکی یاد آگئی جسے چرچ میں دیکھا تھا
نقاب پوش لڑکی پرنس کے پاس آئی اور اسے لاٹھی تھما دی
اتنے میں لوسی فر اندر آگئی سنڈریلا پرنس کو کچھ بتا نہ پائی لاٹھی کے بارے میں ۔
لوسی فر پرنس کی طرف بڑھی تو پرنس نے لاٹھی سے وار کیا
ایک دم سے وہ لاٹھی تلوار میں بدل گئی
لوسی فر نے تلوار کو دیکھا تو ڈر گئی
جب اس نے پیچھے نظر دوڑائی تو سنڈریلا نے صراحی سے مینڈک اس کی طرف اچھالے
لوسی فر چیخی پھر سنڈریلا نے صراحی کے خالی ہونے کے بعد اسے دوبارہ دیکھا تو وہ پھر سے پانی سے بھر گئی تھی
لوسی فر نے یہ پانی دیکھ لیا تھا صراحی کا پانی اسے جھلسا دینے والا تھا
سنڈریلا وہ پانی لوسی فر پر گرانے لگی تھی کہ آئینے میں سے ایک روشنی نکلی اور سارا پانی زمیں پر گر گیا
لوسی فر دیکھ نہ پائی کہ روشنی کدھر سے آئی بس پرنس اور سنڈریلا سے بچتی پیچھے کو دوڑی
آئینے کی کشش نے اسے خود میں سمو لیا اور وہ چیختی آئینے کے اندر چلی گئی اور اسی وقت آئینہ بھی غائب ہوگیا
لوسی فر کے آئینے کے اندر جاتے ہی وہ مینار ٹوٹنے لگا تو سنڈریلا نے پرنس کو بھاگنے کو کہا پھر وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے مینار سے باہر آگئے
باہر کرون اور نائس ان کے منتظر تھے
............
جونہی سنڈریلا شہر پہنچی اس کی ملاقات پری سے ہوئی جس نے اسے بتایا کہ لیڈی ٹری میں اسے بہت ڈھونڈ رہی ہے اس لیے سنڈریلا فورا گھر پہنچی اسے بہت ڈانٹ پڑی تھی کیونکہ اس نے یہی کہا کہ وہ ماں کی قبر پر تھی یہاں تک کہ اسے بھوکا کمرے میں بند کردیا گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
واپس آکر محل پرنس اس نقاب والی لڑکی کے بارے میں سوچتا رہا
کیا وہ کوئی پری تھی
ایک لمحے کے لیے چرچ میں ملی
پھر اس رات
اور اب میری جان بھی بچالی
.................
تیرے عشق کے حصار میں
میں نے خود کو پرو دیا
میرے دل میں تیرا دل ہے
میری روح میں تجھے سمودیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"
وہ سوچ رہا تھا اچانک اسے یاد آیا کہ اس کے پاس اس لڑکی کا ایک جوتا ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس دن بادشاہ کا وزیر پورے شہر میں اس جوتے کی تفتیش کے لیے گیا
پورے شہر میں وہ جوتا کسی کو پورا نہ آیا
وہ لیڈی ٹری مین کے گھر بھی پہنچ گئے سنڈریلا نے ان کو بالکونی سے دیکھا تھا
لیکن یہ کیس جب وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے آئی تو دروازہ باہر سے بند تھا
سنڈریلا بہت چلائی
لیکن کسی نے دروازہ نہ کھولا
اینسٹیزیا اور ڈریزیلا کو جوتا پہنا کر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے کیا
"کیا یہاں کوئی اور نہیں "
"نہیں یہاں کوئی اور نہیں رہتا"۔
لیڈی ٹری مین نے جواب دیا
"میں بھی یہاں رہتی ہوں "
سنڈریلا کی آواز آئی تو سب نے مڑ کر دیکھا سیڑھیوں کے پاس پھٹے کپڑوں اور اپرن میں ایک لڑکی کھڑی تھی
وزیر اس کی طرف گیا
"یہ ماسی ہے "
لیڈی ٹری مین نے اڈے روکا
لیکن وزیر نے جونہی سنڈریلا کو جوتا پہنایا اسے پورا آگیا اور اس کے ساتھ ہی اس کے پیر میں دوسرا جوتا بھی چمکنے لگا اور صرف اتنا ہی نہیں یک دم اڈے کے کپڑے بدل گئے
سنڈریلا کو بگھی میں بٹھا کر محل لے جایا گیا
لیڈی ٹری مین حقارت آمیز نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
دراصل پری نے آکر سنڈریلا کو وہاں سے نکالا تھا
۔۔۔۔۔
سفید فراک میں ملبوس سنڈریلا شاہی سرخ کپڑے پر چل رہی تھی لوگوں کا ایک ہجوم تھا اور دوسری طرف سے پرنس آرہا تھا
پرنس نے آکر سنڈریلا کا ہاتھ تھاما اور اسے سینے سے لگا لیا پھر وہ دونوں رقص کرنے لگے
اس طرح ان دونوں کی شادی ہوگئی
تھوڑی دیر بعد سنڈریلا باور پرنس بگھی میں بیٹھے پورے شہر کا چکر لگا رہے تھے اور لوگوں سے مل رہے تھے اور لوگ ان کو شادی کی مبارکباد دے رہے تھے اور وہ اس پر خوش ہورہے تھے
شام کے ڈھلتے سورج میں بگھی شاہی محل کو رواں تھی اور سنڈریلا اور پرنس بگھی میں بیٹھے تھے
اچانک سنڈریلا نے نظر اٹھائی اور پرنس کی آنکھوں میں دیکھا تو پرنس بھی محبت سے اسے دیکھنے لگا
.................
تیرے عشق کے حصار میں
میں نے خود کو پرو دیا
میرے دل میں تیرا دل ہے
میری روح میں تجھے سمودیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
About Untwisted Pages
Soratemplates is a blogger resources site is a provider of high quality blogger template with premium looking layout and robust design
Subscribe to:
Post Comments (Atom)




No comments:
Post a Comment