Tuesday, August 4, 2020
بکرا منڈی میں محبت
یونیورسٹی کی محبتیں تو سبھی نے سنی ہوں گی ۔ کزنوں کی محبتیں بھی پورے عالم میں مشہور ہیں ۔ راہ چلتوں کی محبتیں ٬ شاپنگ مالز میں محبتیں ٬ ہوائی جہاز میں محبتیں اور یہاں تک پہاڑ کی چوٹی پر ہونے والی پہلی ملاقات سے شروع ہونے والی محبتیں تو سب نے پڑھی سنی ہوں گی مگر یہ ایک ایسی محبت کی کہانی ہے جس کے بارے میں نہ کسی نے پڑھا لکھا نہ سنا کیونکہ یہ محبت ایک ایسی جگہ ہے ہوئی جہاں محبت کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ لوگ محبتیں کرنے اور ان کو منانے ہوٹلوں پر جاتے ہیں اور جا کر خوبصورت لذیذ کھانے کھا کر اپنی محبتوں کو اوج دیتے ہیں مگر یہ محبت ان محبتوں سے بہت مختلف تھی کیونکہ یہ محبت بکرا منڈی میں شروع ہوئی ۔
تحریر لکھتے ہوئے وہ خود ہنس دی ۔ اور پھر اپنا قلم اٹھایا اور لکھنے لگی
ہاں بکرا منڈی میں محبت ۔۔
دنیائے محبت میں ایک ترقی ہوئی تھی اس محبت کی کہانی کے بعد ۔ کیونکہ بکرا منڈی ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں لوگ صرف قربانی کا جانور خریدنے جاتے ہیں محبتیں نہیں کرنے جاتے مگر دیکھ لیجیے اس کہانی کے ہیرو اور ہیروئن کو جن کو بکرا منڈی میں محبت ہوئی ۔
وہ پھر سے ہنسی اور مسکرا کر سامنے لگے آئینے میں دیکھا تو اس کا روشن چہرہ آئینے میں دکھائی دینے لگا ۔ اس کے لمبے گھنے بال چھن چھن کر نیچے گر گئے اور اس کا مکھڑا بہت حسین رخ پیش کرنے لگا ۔
پھر اس نے ڈائری سنڈی میز پر رکھی اور آئینے کے آگے آکر کھڑی ہوگئی ۔
" میری کہانی "
اس نے خود کو ہنستے ہوئے دیکھا
" کسی قلمکار نے آج تک ایسی کہانی نہ سنی ہوگی کہ لکھی ہوگی "
وہ ہنسی اور خود کو آئینے میں دیکھنے لگی ۔
" عید آنے والی تھی اور عید بھی قربانی کی اور تبھی رقم ہوئی یہ کہانی "
وہ مسکرائی اور آئینے میں مسکراتے ہوئے خود کو دیکھنے لگی ۔
جیسے کتاب ماضی کے صفحے پلٹ رہی ہو
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" یار مجھے کوئی نئی کہانی نہیں مل رہی ۔۔
کیا کردوں کوئی آئیڈیا دو کہ کچھ الگ کچھ تھوڑا یونیک لکھوں "
زوفا آئینے کے آگے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی اور اس سے کچھ دور بیٹھی اس کی سہیلی صبا موبائل پر نظریں ٹکائے زوفا کی باتیں سن رہی تھی ۔
" ارے یار زوفا تمہاری یہ باتیں پھر سے شروع "
موبائل کی سکرین پر انگلیاں پھیرتے ہوئے صبا مذاق اڑانے کے انداز میں بول رہی تھی
" نہیں یہ بہت اہم ہے پتا ہے رسالے والوں نے عید پر بہت مختلف کہانی کی ڈیمانڈ کی ہے "
آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے زوفا نے کہا تو آئینے میں اس کا چہرہ دکھائی دینے لگا ۔
" تو تم کہو نا ان رسالے والوں کو کہ مجھ سے نہیں لکھی جاتی ویسی بکواس کہانیاں "
صبا نے بنا سوچے سمجھے کہا
ایک لمحے تو زوفا صبا کی بات کو سوچتی رہی پھر ہڑبڑا کر منہ پیچھے موڑا ۔ اس کا خوبصورت چہرہ جو لمبی بالوں کے بیچ بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا نظر آیا ۔
" تم نے میری کہانیوں کو بکواس کہا "
زوفا نے ہاتھ میں پکڑا کنگھا صبا کی طرف اچھالنے کی انداز میں کہا
" نہیں یار رکو رکو "
صبا اپنی ہنسی پر قابو کرنے لگی اور خود کو زوفا کے وار سے بچانے لگی
" نہیں تو اور کیا ۔۔
ہائے اللہ ! اتنی محنت سے کہانیاں لکھتی ہوں "
زوفا کا بناوٹی رونا شروع ہوگیا جو ہر بار تب ہی شروع ہوتا تھا جب کوئی اس کی کہانیوں کا مذاق اڑاتا تھا ۔
" ارے میری پیاری گڑیا "
صبا کو پتا تھا کہ زوفا اب اتنی آسانی سے نہیں مانے گی تو صبا اس کے پاس آگئی اور اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر بولی
" میری گڑیا تو بہت اچھا لکھتی ہے ۔ پتا ہے ہماری زوفا سلمان جیسے مشہور رائٹر کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے "
صبا نے اتنے پیار سے کہا تو زوفا کی ہنسی نکل گئی
" اچھا اب زیادہ مکھن مت لگاؤ ۔ زیادہ مکھن لگاؤ گی تو ۔۔۔"
زوفا کچھ کہنے لگی تھی صبا نے بات کاٹ دی
" تو کیا ؟"
" تو مکھن ختم ہو جائے گا نا "
زوفا نے بات مکمل کی تو زوفا اور صبا دونوں ہنسنے لگیں ۔
" اچھا زوفا آج چھوڑو نا یہ ناول وغیرہ ۔۔ "
صبا نے منت کے انداز میں کہا
" کیوں کہیں جانا ہے کیا ؟"
" ہاں نا بکرا منڈی چلتے ہیں "
صبا نے کہا تو زوفا ایک دم حیرت سے اسے دیکھنے لگی
" کیا کہہ رہی ہو تم ؟ "
" ہاں نا یار ۔۔ عید آنے والی ہے اور کچھ دن بعد ہمیں یونیورسٹی سے چھٹیاں بھی ہو جائیں گی اور چلتے ہیں نا بکرا منڈی بہت انجوائے کریں گے "
صبا زوفا کو قائل کرنے لگی ۔۔
" اچھا ٹھیک ہے کون کون جارہا ہے اور کب جارہے ہیں ؟"
زوفا نے کھڑی ہوتے ہوئے کہا
" سعدیہ ٬ شمائلہ ٬ اقراء ٬ زینت ٬ سدرہ ٬ تم اور میں "
صبا نے اپنے پورے گینگ کا نام بتایا
" کوئی بچ تو نہیں گیا "
زوفا نے ہنس کر کہا
" اچھا کب جارہے ہیں ؟"
" پاس شام ہوتے ہی نکل جائیں گے اور پھر تمہیں تو پتا ہے گیارہ بجتے ہی لوٹنا ہوگا ورنہ ہاسٹل میں آنے نہیں دیں گے "
صبا نے تفصیل بتائی
" ویسے صبا منڈی کا راستہ تو آتا ہے نا "
زوفا ایک ڈک فکرمندی سے کہا
" ارے یار اقراء بتا رہی تھی کل وہ اپنے کزن کے ساتھ منڈی گئی تھی اور اسے پتا ہے راستے کا "
صبا نے زوفا کو تسلی دی
" مگر صبا منڈی میں بہت رش ہوتا ہے اگر میں کھو گئی تو "
ایک لکھاری کی طرح زوفا کی بھی یہ عادت تھی کہ مستقبل کے بارے میں سو سال پہلے ہی سوچ لیتی ۔ اگر لکھاری پہلے سے کہ سوچے تو آگے جا کر کہانی خراب ہو جاتی ہے ۔
" ارے یار نہیں ہوتی تم گم ۔۔ میری انگلی پکڑ لینا میں تمہیں گم نہین ہونے دوں گی "
صبا نے ہنس کر کہا
" اور اگر ہم دونوں ہی گم ہوگئیں "
زوفا نے بڑی معصومیت سے کہا تو صبا کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨
شام ہوتے وہ سب ہاسٹل سے نکلیں اور بکرا منڈی کے لیے روانہ ہوگئیں ۔ ہاسٹل کے قریب ہی ایک منڈی تھی جس کے بارے میں اقراء نے انہیں بتایا تھا اور یوں وہ سب منڈی کے لیے نکل گئیں ۔ منڈی زیادہ دور نہیں تھی اسی لیے انہوں نے پیدل جانے پر اکتفا کیا ۔
" منڈی میں طرح طرح کے جانور ہوتے ہیں خطرناک بھی "
راستے میں چلتے ہوئے زوفا کے ذہن میں خیال آیا تو اس نے سب سے کہا تو سب نے اسے قہر آلود نگاہوں سے دیکھا
" ارے نہیں اتنے بھی کوئی خطرناک نہیں ہوتے "
سدرہ نے کہا
" نہیں یار ہوتے ہیں ۔ پتا ہے بچھڑا اگر پاگل ہو جائے نا مار بھی دیتا ہے "
سعدیہ نے زوفا کو ڈرانے کے انداز میں کہا
" مم مجھے نہیں جانا منڈی "
زوفا نے ڈرتے ہوئے کہا
" ارے نہیں یار یہ سب مذاق کررہی ہیں ۔ جانور تو بہت پیارے ہوتے ہیں "
صبا نے مسکرا کر کہا
" ہاں بہت کیوٹ ہوتے ہیں ۔ پتا ہے جب میں گھر میں ہوتی تو میں بکرے کو ساتھ سلاتی تھی "
شمائلہ ڈینگیں ہانکنے لگی
" لو جی کر لو بات "
سدرہ نے ہنس کر کہا
" اچھا یار اب چلو نا جانور نہیں کچھ کہتے "
اقراء نے زوفا کو دیکھا
" ہاں جانور تو اتنے معصوم ہوتے ہیں یار ۔۔
اب چلو نا ۔ "
شمائلہ بولی
" ہاں نا زوفا بکرا منڈی میں ہوسکتا ہے تمہیں کوئی ایسا بکرا مل جائے جس پر تمہارا دل آجائے "
سعدیہ نے ہنس کر کہا
" ہاں اور پتا ہے پھر تمہاری اور اس بکرے کی محبت کی ایک یونیک کہانی شروع ہوگی "
زینت پہلی بار بولی تھی
" اور پتا ہے زوفا تمہیں لکھنے کے لیے بھی ایک نئی کہانی مل جائے گی "
صبا بھی ہنسی
" ارے یار کیا تم سب لوگ میری کیوٹ سی دوست کا مذاق اڑا رہی ہو ۔ میری دوست کو تو کوئی شہزادہ ملے گا اور وہ بھی کسی بکرا منڈی میں تھوڑی ملے گا ہیں نا زوفا "
اب کی بار سعدیہ نے زوفا کی سائیڈ لی تھی تو معصوم زوفا نے اثبات میں سر ہلایا
" اچھا یار اب چلتے ہیں بکرا منڈی "
اقراء نے کہا تو وہ سب پھر سے بکرا منڈی کے لیے چلنے لگیں ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
سیاہ چمکتی کار بکرا منڈی کے باہر آکر رکی ۔ آگے والا دروازہ کھلا اور سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس وہ باہر نکلا ۔ سیاہ شلوار قمیض کے نیچے پہنے ہلکے بھورے رنگ بوٹ اس سیاہ رنگ کو چار چاند لگا رہے تھے اور پھر ہاتھ میں پہنی ہوئی سلور رنگ کی گھڑی جو اس کی شخصیت کو مزید نکھار رہی تھی ۔ باہر نکلتے ہی اس نے اپنی آنکھوں سے کالا چشمہ ہٹایا تو جیسے بادلوں کے پیچھے چاند نکل آیا ہو ۔ اس کی ہلکی خط دستیاب داڑھی اسے مزید نکھار رہی تھی ۔
اس کے باہر نکلتے ہی گاڑی کی پچھلی نشستوں سے اس کے دو دوست بھی باہر نکل آئے
" چلیں منڈی میں "
اس نے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا
" ہاں طلحہ "
اس کے دوستوں نے اس کی بات کا جواب دیا تو طلحہ مسکرایا
پھر وہ تینوں بکرا منڈی کے اندر چلے گئے
✨✨✨✨✨✨✨✨
زوفا اپنی سہیلیوں کے ساتھ بکرا منڈی تک پہنچ گئی ۔ عید آنے میں کافی دن پڑے تھے اور اسی لیے وہاں اتنا رش بھی نہیں تھا ۔ گاہے بگاہے باہر کئی چرواہے اپنے جانور لیے کھڑے تھے
" ارے یار کتنا کیوٹ بکرا ہے !"
اقراء نے ایک بکرے کو دیکھا
" یا اللہ! میرا دل کرتا ہے اس پارے بکرے کے ساتھ سیلفی لوں"
اقراء نے جلدی سے پرس سے اپنا فون نکالا۔
" یار اب تم بکرے کے ساتھ سیلفی لینے نہ چلی جانا "
سدرہ نے ہنس کر اقراء کو دیکھا
" نہیں تو اور کیا سیلفی تو لینی ہی پڑے گی "
اقراء مسکرائی اور بکرے کے ساتھ سیلفی لینے چلی گئی ۔ زوفا اور باقی سب وہیں کھڑی اسے دیکھنے لگی جو بکرے والے سے کچھ بات کررہی تھی اور پھر سیلفی لینے لگی ۔
" لی آئی ہو سیلفی "
سعدیہ نے ہنس کر کہا جب اقراء سیلفی لیکر واپس آگئی تھی ۔
" اتنا شونا بکرا تھا دل کرتا تھا پاری کر لوں "
اقراء نے کہا تو صبا ہنسنے لگی ۔
" یار بس کرو نا میرا دم گھٹ رہا ہے "
زوفا نے گبھراتے ہوئے کہا
" ارے زوفا دیکھنا کتنے پیارے پیارے شونے سونے جانور دکھاتی تمہیں ۔ تم تو کہو گی روز منڈی آؤں"
اقراء نے زوفا کا ہاتھ پکڑا
" نن نہیں مم مجھے ڈر لگتا ہے جانوروں سے "
زوفا نے کہا
" اچھا رکو اس بکرے کو ہاتھ لگاؤ ۔ کچھ نہیں کہے گا تمہیں "
سعدیہ نے ایک بکرے کی طرف اشارہ کیا
" نن نہیں "
" ارے یار لگا دو نا یہ سب بھی خوش ہو جائیں گی "
صبا نے زوفا کے کندھے پر کہنی رکھی
" وو وہ میرا ہاتھ کھا جائے گا "
زوفا نے ڈرتے ہوئے کہا تو اس کی ساری سہیلیاں اونچی آواز میں ہنسنے لگیں
" بکرا اگر ہاتھ کھاتا ہوتا ہے تو یہ پٹھے ( چارہ) انسان کھاتے ہیں کیا ؟"
شمائلہ کافی دیر بعد بولی تھی ۔
" ارے یار مت تنگ کرو میری دوست کو اندر چلتے ہیں "
زینت نے زوفا کی طرف داری کی
پھر وہ سب اندر کی طرف چلی گئیں ۔
منڈی کے اندر کافی چہل پہل تھی۔ ہر طرف جانوروں کے سوداگر اپنے اپنے جانور لیے کھڑے تھے ۔ کسی کے پاس اکا دکا جانور تھے اور کوئی جانوروں کا پورا ڈھیر لیے کھڑا تھا ۔ درمیان میں راہگیروں کے لیے چلنے کے واسطے ایک راستہ بنایا گیا تھا مگر آخری دنوں میں وہ راستہ بھی دکھائی نہیں دیتا مگر چونکہ ابھی عید میں کافی دن تھے اس لیے وہ راستہ سالم تھا ۔
وہ سب منڈی کو چاروں طرف سے دیکھ رہی تھی اور آگے قدم بڑھا رہی تھی
" دیکھو نا منڈی میں ہر طرف آدمی ہی ہیں ۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے "
زوفا پھر سے بولی
" ارے یار اب یہاں تک آگئی ہو تو تھوڑا سا آگے بھی چل لو نا "
سدرہ نے کہا تو زوفا بیچاری چپ کر گئی ۔
ایک طرف کچھ دنبے بکنے کے لیے موجود تھے اور ان دنبوں کو دیکھ کر ساری لڑکیاں مچل گئیں۔ لڑکیاں تو دنبوں کی دیوانی ہوتی ہیں یوں بھاگی جیسے کوئی تماشہ چل رہا ہو ۔
زوفا بھی آہستگی سے ان کے ساتھ چلنے لگی ۔
" یہ دیکھو یار کتنا پیار لگ رہا ہے جب یہ چلتا ہے تو پیچھے سے یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اس کی چربی ڈانس کررہی ہو "
سعدیہ نے دنبے کو پیچھے سے نوٹس کرکے کہا
" اس کی ویڈیو بناتے ہیں "
زینت نے سعدیہ کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور دنبے کی ویڈیو بنانے لگی ۔
زوفا دور کھڑی ہو کر ڈرتے ڈرتے اپنے سانس بحال کرنے لگی کہ اچانک ایک طرف ایک بچھڑا پاگل ہوگیا تھا اور دوڑنے لگا تھا اور وہ اسی جانب آرہا تھا جس طرف زوفا کھڑی تھی ۔
بچھڑے کو آتے دیکھ کر زوفا ڈر کے مارے دوڑنے لگی ۔ اب یہ عالم تھا زوفا آگے آگے اور بچھڑا پیچھے پیچھے ۔ اچانک کسی چیز سے اٹک کر زوفا زمین پر جاگری اور بچھڑا اب زوفا کے بہت قریب پہنچ چکا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ زوفا کو پیروں تلے مسلنے والا تھا اور تبھی دور کھڑا طلحہ جو ایک بیل والے سے بات چیت کررہا تھا اس کی نظر بچھڑے کے نیچے آتی زوفا پر پڑی وہ دوڑا اور یک دم کہانی میں آنے والے ہیرو کی طرح انٹری مار کر زوفا کو یک دم سے بچھڑے کی گرفت سے دور کیا اور دائیں طرف موڑ لیا مگر بدقسمتی سے زوفا کو بچاتے ہوئے طلحہ کا پیر کسی اینٹ سے اٹکا اور وہ دونوں اوندھے منہ دوسری طرف زمین پر جاگرے ۔
ایک لمحے کے لیے وہ دونوں ساکت وہاں پڑے رہے ۔ کچھ لوگ بھی جمع ہوچکے تھے مگر وہ صرف جمع ہوئے تھے کوئی بھی ان کو اٹھانے کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا تھا ۔ پھر طلحہ نے ہمت جمع کی اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور آگے بڑھ کر زوفا کی طرف ہاتھ بڑھایا
" آپ ٹھیک ہیں "
اس نے زوفا کے چہرے کی طرف دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا ۔
زوفا کے خوبصورت چہرے نے اسے اپنے سحر میں جھکڑ لیا تھا اور وہ بغیر آنکھ جھپکے زوفا کے چہرے کو تکی جارہا تھا ۔
۔۔۔
تجھ سے پیار ہوا ہے مجھے
دل و جان سے ہوا ہے مجھے
جھکڑا ہے مجھے دھیرے سے
تیری آنکھوں نے ترے چہرے نے
دیکھوں ان کو مڑ مڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
۔۔۔۔۔۔
زوفا نے بھی جب طلحہ کے چہرے کو دیکھا تو بس اس کے چہرے میں ہی گم ہو کر رہ گئی ۔ وہ اس کے خوبصورت روشن چہرے کو اپنی نظروں کے ساحل میں اتارنے لگی ۔ اور اسی طرح طلحہ بھی زوفا کے گھنے بالوں کے آنچل میں رقص کرنے لگا جیسے کسی قربانی کے بکرے کو چارہ دکھائی دے تو لہک لہک کر اس کی طرف دوڑتا ہے ۔
" مم میں ٹھیک ہوں "
زوفا کی آواز نے اس ہم آہنگی کو توڑا اور وہ دونوں ایک دوسرے کی رعنائی کے طلسم سے باہر آئے ۔
زوفا نے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر سنبھل نہ سکی
" لائیے میں اٹھاتا ہوں "
طلحہ مسکرایا اور زوفا کی طرف ہاتھ بڑھایا
" اتنی محبت بھری آواز کہ زوفا بنا کچھ سوچے طلحہ کا ہاتھ تھامنے پر مجبور ہوگئی ۔
طلحہ نے زوفا کا لمس محسوس کیا اور یہی زوفا نے کیا تھا اور یہ لمس ان کی روحوں تک گیا تھا۔
طلحہ نے زوفا کو کھڑا کیا
" آپ کا بہت شکریہ "
مسکراتے ہوئے زوفا نے کہا
کوئل جیسی خوبصورت آواز طلحہ کے کانوں میں رس گھولنے لگی
" نہیں میرا فرض تھا ۔ "
طلحہ نے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا جن پر مٹی لگ گئی تھی ۔
" آپ وقت پر کسی کہانی کے ہیرو کی کہانی انٹری کہ مارتے تو نہ جانے میں اللہ کو پیاری ہوچکی ہوتی "
زوفا عادت سے مجبور تھی ہر چیز کو ناول اور کہانی کی طرح سوچتی تھی
" ارے ایسا کچھ نہیں ہے وہ تو میری نظر پڑ گئی ۔
خیر آپ کو سنبھل کر چلنا چاہیے تھا "
طلحہ نے مسکرا کر کہا
" ایک بار پھر آپ کا شکریہ
میں تا حیات آپ کی شکر گزار رہوں گی "
زوفا نے ٹھوس اردو بولتے ہوئے کہا
" میں چلتا ہوں میرے دوست میرا انتظار کررہے ہوں گے "
طلحہ نے کہا تو زوفا مسکرائی
" ہاں میری سہیلیاں بھی وہاں کھڑی ہوں گی "
زوفا نے پیچھے کی طرف نظر دوڑائی مگر اس بار اسے ایک زور کا جھٹکا لگا کیونکہ اس کے پیچھے وہ دنبے والی جگہ نہیں تھی وہ تو کہیں اور ہی آچکی تھی ۔
زوفا کے چہرے کے بدلتے تیور دیکھ کر طلحہ نے حیرت سے اسے دیکھا
'' آپ ٹھیک ہیں "
طلحہ نے زوفا کو دیکھا
" وو وہ مجھے لگتا ہے میں اپنی دوستوں سے بہت دور آگئی ہوں اس بچھڑے کے چکر میں "
زوفا نے پریشانی سے کہا
" کیا مطلب ؟"
" مم میں اس بکرا منڈی میں گم ہوگئی ہوں "
زوفا نے کسی چھوٹی بچی کی طرح معصومیت سے کہا تو طلحہ اس کی معصومیت کے حصار میں جذب ہو کر رہ گیا ۔
" آپ پریشان مت ہوں آپ یاد کرنے کی کوشش کیجیے کہ آپ کس طرف آئی تھیں "
طلحہ نے زوفا کو ہمت دی
زوفا نے اردگرد دیکھا اسے کچھ سمجھ نہ آیا اس کا ذہن ماؤف ہوچکا تھا
" اچھا آپ پریشان نہ ہوں میرے دوست وہاں سامنے بیل والے کے پاس ہیں۔ آپ یہاں رکیں میں ان کو انفارم کردوں پھر میں آپ کو آپ کی سہیلیوں تک چھوڑ آتا ہے "
طلحہ نے بڑی متانت اور حوصلے سے کہا اور زوفا کو طلحہ کے اس حوصلے میں نہ جانے کیا دکھائی دیا کہ وہ اس سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی
طلحہ وہاں سے چلا گیا مگر تھوڑی دیر بعد آیا
" آپ نے بتا دیا اپنے دوستوں کو "
" نہیں ۔۔ میں ان کو نہیں بتا سکا "
طلحہ نے آہستگی سے کہا
" کیوں ؟"
" کیونکہ مجھے لگتا ہے آپ کی طرح میں بھی اس منڈی میں کھو گیا ہوں "
طلحہ نے ہنستے ہوئے کہا
" میں سمجھی نہیں "
زوفا نے حیرت سے کہا
" دراصل میں اپنے دوستوں کے ہمراہ بیل والے کے پاس تھا اور تبھی آپ مجھے دکھائی دیں اور اب میرے دوست نہ جانے کہاں ہیں ؟"
طلحہ نے ہنس کہا
" اس کا مطلب میں اب ہمیشہ اس منڈی میں قید رہوں گی اس شہزادی کی طرح جسے اس کی ماں نے بڑے مینار میں قید کردیا تھا "
زوفا افسردہ سی ہوگئی تھی اور اس کی آنکھ سے آنسو بھی نکل پڑا تھا ۔
" آپ رو رہی ہیں "
زوفا کے معصوم اور بھولے بھالے چہرے پر آنسو دیکھ کر طلحہ تڑپ اٹھا
" اچھا روئیں مت"
طلحہ نے زوفا کی طرف دیکھا
" اچھا مجھ پر بھروسا کیجیے میں آپ کو یہاں سے باہر نکال دوں گا "
طلحہ نے کہا تو زوفا نے معصومیت سے اس کے چہرے کو دیکھا
اسے فورا وہ شہزادی یاد آئی جس کی ماں نے اسے مینار میں قید کردیا تھا مگر پھر ایک شہزادہ آیا تھا جس نے اسے اس مینار سے باہر نکالا تھا
" کک کیا سچ میں آپ مجھے یہاں سے باہر نکال دیں گے "
معصوم زوفا نے مارے تشویش کے کہا
" ہاں "
" آپ کیسے مجھے یہاں سے باہر نکال سکتے ہیں آپ تو خود کھو گئے ہیں "
زوفا نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
" اچھا دیکھو روؤ مت ۔۔ ہم نکل جائیں گے یہاں سے باہر ۔ مجھ پر بھروسہ کرو نا "
طلحہ نے کہا
" اور اگر ہم نہ نکل سکے تو "
زوفا کی آنکھوں کے سامنے سارے جانور آگئے
" یہ سارے جانور مجھے کھا جائیں گے "
زوفا کی باتوں سے طلحہ کا دل پسیج سا گیا تھا
" میں وعدہ کرتا ہوں میں آپ کو یہاں سے نکال لوں گا "
طلحہ مسکرایا تو زوفا نے اس کو دیکھا
" اب چلیں ہم "
طلحہ نے کہا تو زوفا نے اثبات میں سر ہلایا
پھر وہ دونوں وہاں سے باہر راہداری کی طرف چلنے لگے ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨
" ارے یار یہ زوفا کہاں رہ گئی "
زوفا کی ساری سہیلیاں دنبوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھیں کہ ایک دم صبا کو یاد آیا کہ زوفا ان کے ساتھ نہیں ہے ۔
" زوفا "
سب نے ادھر ادھر زوفا کو دیکھا مگر وہ کہیں بھی نہیں تھی
" کہاں چلی گئی زوفا "
وہ سب زوفا کو اپنے اردگرد ڈھونڈنے لگیں
کافی دیر وہ قریبی جگہ میں زوفا کو تلاش کرتی رہیں مگر زوفا کسی کو نہ ملی
" میرا خیال ہے زوفا جانوروں سے ڈر کر منڈی سے باہر چلی گئی ہوگی
" کسی نے زوفا کو کال لگائی "
سدرہ نے پوچھا
" نہیں زوفا کا موبائل میرے پاس ہے "
صبا نے اپنے ہاتھ میں پکڑا زوفا کا موبائل سب کو دکھایا
" ایسا کرتے ہیں منڈی سے باہر جا کر دیکھتے ہیں "
زینت نے صلاح دی تو وہ سب منڈی سے باہر جانے کے لیے روانہ ہوگئیں
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" آپ منڈی کیوں آئی تھیں ؟"
زوفا اور طلحہ راہداری میں چل رہے تھے۔ وہ دونوں خاموش تھے کہ اچانک طلحہ نے یہ خاموشی توڑی ۔
" مم میں بس غلطی سے آگئی "
زوفا نے جھجھکتے ہوئے کہا
" غلطی سے کیوں ؟"
" میری سہیلیاں مجھے زبردستی لے آئی تھیں "
" آپ انکار کر دیتی "
" انکار ہی تو کیا تھا مگر پھر وہ فورس کرنے لگی تھیں "
زوفا نے بڑی معصومیت سے کہا
" آپ کی سہیلیاں منڈی کیوں آئی "
" وہ تو ایک نمبر کٹنیاں ہیں ۔۔ یونہی تفریح کے لیے آئی تھیں "
زوفا نے دل کی بھڑاس نکالی تو طلحہ کی ہنسی نکل گئی
" آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟"
" اس لیے کہ آپ کا حساب وہی ہوتا ہوگا اپنی سہیلیوں کے بیچ جیسا قربانی کے بکرے کا ہوتا ہے جب قصائی اسے باندھ لیتے ہیں قربان کرنے کے لیے "
طلحہ نے مسکرا کر کہا
" شکر ہے کوئی تو مجھے سمجھ رہا ہے "
زوفا مسکرائی
" اچھا آپ مجھے منڈی کے باہر چھوڑ دیں گے نا "
" ہاں ہاں "
طلحہ مسکرایا
اچانک ایک طرف سے اونٹوں کی پوری ٹولی آتی دکھائی دی ۔ وہ اتنے سارے اونٹ تھے کہ کوئی بھی شخص انہیں دیکھ کر سہم جائے ۔ زوفا کے چہرے کے رنگ اڑ گئے ۔ اونٹ قریب سے قریب ہوتے گئے ۔ زوفا کو سمجھ نہ آئی کہ کیا کرے وہ طلحہ کے ساتھ چپک گئی اور اس نے بے حالی میں طلحہ کا بازو تھام لیا ۔
طلحہ نے زوفا کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کیا تو تو نظر اٹھا کر زوفا کو دیکھا جو ڈری سہمی اس سے لپٹی ہوئی تھی ۔ طلحہ کی نظر تو زوفا پر ٹک کر رہ گئی ۔
۔۔۔۔۔
نثار ہوا ہوں میں تجھ پہ
قربان ہوا ہوں میں تجھ پہ
میرا دل اور جان تجھ پہ فدا
نہ ہوؤں میں تم سے اب جدا
چلیں ہر راہ ہم جڑ جڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
۔۔۔۔۔
طلحہ کا دل چاہا کہ اپنی بانہوں میں زوفا کو سمو لے اور اس سارے فساد اور شور سے کنارا کرکے الگ ہوجائے ۔ نہ جانے کیوں زوفا کا اسے اپنے ساتھ ہونا بہت ہی خوبصورت لگا ۔ اتنا خوبصورت کہ کائنات کوئی بھی چیز اسے آج سے پہلے اتنی حسین نہیں لگی تھی ۔
اونٹ آگے جا چکے تھے اور تبھی زوفا کو احساس ہوا کہ وہ تو طلحہ کو تھامے ہوئے ہے
" رئیلی سوری "
ہچکچاتے ہوئے زوفا نے خود کو طلحہ سے الگ کیا
خود سے زوفا کا دور جانا طلحہ کو بہت عجیب لگا ۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ زوفا یونہی اس کی بانہیں تھامے رہے اور وہ زوفا کا چہرہ دیکھتا رہا ۔
پھر اس نے ہمت کی اور کہا
" کوئی بات نہیں ۔۔"
پھر وہ دونوں منڈی سے باہر کی جانب چلنے لگے
اب وہ چلتے چلتے منڈی کے بیرونی دروازے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے ۔ دور سے منڈی کا صدر دروازہ دکھائی دے رہا تھا
آسمان پر بادل چھائے لگے تھے اور یہ رات تاریک ہونے لگی تھی ۔ بادلوں نے چاند کو اپنے حصار میں لے لیا تھا اور اب کافی اندھیرا ہوگیا تھا ۔
" لگتا ہے بارش ہونے والی ہے !"
زوفا نے آسمان کی طرف دیکھا
" ہاں صبح سے موسم ایسا ہی تھا ۔ کبھی دھوپ کبھی چھاؤں اور کبھی بوندا باندی "
طلحہ مسکرایا
" ہمیں جلدی یہاں سے نکلنا ہوگا کیونکہ میں رکشہ لیکر ہاسٹل بھی جانا ہے "
زوفا نے ہانپتے ہوئے کہا
" اس سے پہلے کہ بارش شروع ہو جائے ۔
کافی رات ہوگئی ہے اور کہیں ایسا نہ ہو ہاسٹل کا دروازہ بند ہو جائے "
زوفا الجھن میں تھی
" ہم نکل جائیں گے جلد ہی "
طلحہ نے کہا اور پھر وہ دونوں آن کی آن میں منڈی سے باہر نکلنے لگے ۔
مگر بدقسمتی سے ان کے باہر نکلنے سے پہلے ہی بارش شروع ہوگئی ۔ اور بارش بھی یک دم موسلا دھار ۔۔
بارش میں چلنا بھی مشکل ہوتا ہے اور پھر ایک انجان جگہ اور ایک اجنبی کی ساتھ ۔ زوفا کے لیے یہ بہت مشکل تھا ۔
" سنبھل کر چلیے گا ۔۔ کافی کیچڑ ہے یہاں "
طلحہ نے زوفا سے کہا تو زوفا نے نظر اٹھا کر طلحہ کو دیکھا ۔
اس منڈی میں تاریک رات میں اور شدید بارش میں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔
زوفا نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر وہ دونوں آگے بڑھنے لگے مگر زوفا کا پیر پھسل گیا اور وہ ایک کیچڑ سے بھرے گڑھے میں جاگری ۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ گرتی طلحہ آن کی آن میں پھرتی سے اس کی طرف لپکا اور اسے اپنی بانہوں کی لپیٹ میں لے لیا ۔
اس موسلا دھار بارشوں میں تاریک رات میں بکرا منڈی میں کیچڑ سے لدی زمین پر طلحہ زوفا کو تھامے کھڑا تھا اور بارش کی بوندیں آسمان کی آغوش سے نکل نکل کر ان دونوں کی بلائیں لیتی ہوئی زمین کے آنچل میں سمو رہی تھیں ۔ بجلی گری آوو چمک منظر کو مزید خوبصورت بنا رہی تھی اور پھر ہوا کے دوش پر ان دونوں لہکتے بال اس رات کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بن رہے تھے ۔
وہ دونوں ساکت ایک دوسرے کو دیکھی جارپے تھے اور بس دیکھی ہی جارہے تھے ۔ زبانیں چپ تھیں صرف نگاہیں گفتگو فرما رہی تھیں اور دل با ادب ہوکر یہ کلام سن رہے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔
تجھ سے پیار ہوا ہے مجھے
دل و جان سے ہوا ہے مجھے
جھکڑا ہے مجھے دھیرے سے
تیری آنکھوں نے ترے چہرے نے
دیکھوں ان کو مڑ مڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
نثار ہوا ہوں میں تجھ پہ
قربان ہوا ہوں میں تجھ پہ
میرا دل اور جان تجھ پہ فدا
نہ ہوؤں میں تم سے اب جدا
چلیں ہر راہ ہم جڑ جڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" مجھے لگتا ہے زوفا ہاسٹل چلی گئی ہوگی "
زوفا کی ساری سہیلیاں منڈی کے باہر بارش میں کھڑی بھیگ رہی تھیں
" ہاں یار تمہیں تو پتا ہے بارش سے اور بجلی کی کڑک سے کتنا ڈرتی ہے زوفا !"
اقراء کی بات پر زینت نے کہا
" ہاں چنگ جی لے کر چلی گئی ہوگی "
صبا نے بھی اپنی رائے دی ۔
" کیا خیال ہے ہم بھی چلیں ؟"
شمائلہ نے کہا
" ہاں اب بارش میں بھیگ تو نہیں سکتے "
سعدیہ بولی
پھر وہ سب ہاسٹل کی طرف واپس چلنے لگیں ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
بارش رک گئی تھی اور طلحہ اور زوفا منڈی سے باہر آچکے تھے ۔ کافی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی
بارش میں بھیگنے والوں کو جب ہوا لگتی ہے تو سردی بھی بہت لگتی ہے ۔ لڑکے تھوڑے مضبوط ہوتے ہیں سنبھل جاتے ہیں مگر زوفا تو کپکپانے لگی تھی ۔
" رکیے ۔۔ میں آپ کو ڈراپ کر آتا ہوں "
طلحہ نے منڈی سے باہر نکلتے ہی کپکپاتی ہوئی زوفا کو دیکھا
" نن نہیں میں چلی جاؤں گی "
" نہیں وہ سامنے میری کار پارک ہے میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں چنگ جی میں آپ کو کافی سردی لگے گی "
طلحہ نے متانت سے کہا
" نن نہیں میں چلی جاؤں گی "
" لگتا ہے آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں
اچھا ٹھیک ہے آپ چلی جائیے گا ایک منٹ رکیے "
طلحہ نے اپنی کار کا دروازہ کھولا اور کار میں سے ایک شال نکالی ۔
" یہ شال پہن لیجیے آپ کو سردی سے بچائے گی "
طلحہ نے شال زوفا کی طرف بڑھائی
" نن نہیں ایسے ٹھیک ہے "
" دیکھیے آپ کو میری ساتھ نہیں جانا مت جائیے مگر یہ شال ضرور اوڑھ لیں ۔ مجھ پر بھروسہ نہیں تو نہ سہی مگر شال کا کوئی قصور نہیں "
زوفا نے حیرت سے طلحہ کو دیکھا کیونکہ وہ لڑکا اجنبی تھا اس کے لیے مگر وہ اس کے بدن کو اوڑھنے کے لیے شال دے رہا تھا ۔
" شکریہ "
زوفا نے طلحہ سے شال لی اور پھر اوڑھ کر وہاں سے آگے بڑھ گئی ۔
طلحہ زوفا کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا
وہ اس سارے وقت کو یاد کرنے لگا جو ان دونوں نے منڈی میں ساتھ بیتائے ۔
خود سے زوفا کو دور جاتا دیکھ کر نہ جانے اس کے دل میں عجیب سی ہلچل مچ گئی تھی ۔ وہ چاہتا تھا وہ زوفا کو روکے مگر کیسے روکتا وہ ۔ وہ تو اس کا کچھ لگتا ہی نہیں تھا ۔
پھر وہ مسکرایا اور اپنی کار میں بیٹھ گیا اور چابی لگا کر کار اسٹارٹ کرنے لگا ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
طلحہ سے دور جانے کے بعد زوفا ایک طرف فٹ پاتھ کے کنارے کھڑی ہوگئی ۔ اس وقت رات میں لاہور شہر کی سڑکوں پر عجب دھوم تھی ۔ ساڑھے نو ہوچکے تھے اور لاہور شہر میں یہ وقت دن کے برابر ہی ہوا کرتا ہے ۔ مگر بکرا منڈی کی اس طرف نسبتاً کم لوگ تھے ۔ زوفا کسی رکشے کا انتظار کرنے لگی ۔ ایک طرف اسے ایک رکشہ دکھائی دیا ۔ وہ رکشے کی طرف بڑھی ۔
" جی باجی کہاں جانا ہے آپ کو ؟"
رکشے والے نے زوفا سے پوچھا تو زوفا نے اپنے ہاسٹل کا پتہ بتایا
پھر زوفا رکشے پر بیٹھ گئی اور رکشہ چلنے لگا ۔ مگر بدقسمتی رکشہ کسی اور ہی راستے میں چلنے لگا ۔ پہلے تو زوفا کو گبھراہٹ ہوئی مگر پھر اس نے سوچا شاید کسی اورراستے سے جائے گا رکشے والا ۔ طرح طرح کے خیالات اس کے ذہن میں آرہے تھے ۔ رکشے والا کسی ویران سی سڑک پر جارہا تھا اور زوفا کا دل گبھرا رہا تھا
" بھائی یہ آپ کہاں جارہے ہیں ؟"
زوفا نے آخرکار پوچھ ہی لیا
" چپ کرکے بیٹھی رہ ۔ سمجھی"
رکشے والے نے گرج دار آواز میں کہا
" مم مجھے ہا ہا سٹل جانا ہے اپنے "
زوفا کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے
" دیکھ چپ چاپ یہ رات میرے سارے بیتا لے صبح ہوتے ہی جہاں کہے گی چھوڑ آؤں گا "
اس آدمی نے منہ پیچھے کرکے کہا تو اس کے بھیانک چہرے کو دیکھ کر زوفا ڈر گئی
" بھائی ۔۔ "
زوفا کچھ بولنے ہی لگی تھی
" یہ بھائی مت بول سمجھی ورنہ اسی رکشے کے نیچے دے کر مار دوں گا تجھے "
وہ چلایا
" آپ کو خدا کا واسطہ ۔۔ مجھے چھوڑ دیجیے ۔۔
مم میں کسی کو نہیں بتاؤں گی ۔۔ پلیز "
زوفا رونے لگی تھی ۔
رکشے والا چپ چاپ رکشہ دوڑائی جارہا تھا اور زوفا چیخی جارہی تھی اور کوئی اسے سننے والا نہیں تھا ۔
رکشہ ایک جگہ آ کر رک گیا ۔ اور پھر رکشے والے نے نیچے اتر کر خونخوار نظروں سے زوفا کو دیکھا
" چل اتر اور میرے ساتھ چل "
اس نے زوفا کو گھسیٹ کر رکشے سے نیچے اتارا
" خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔۔
پلیز ۔۔ پلیز ۔۔ "
زوفا گڑگڑانے لگی
" دیکھ میں تیرے ساتھ صرف ایک رات گزاروں گا اور صبح تجھے چھوڑ دوں پھر تو اپنے راہ میں اپنے راہ "
رکشے والے نے اس کے بال پکڑے
" پلیز میں کسی کو نہیں بتاؤں گی مجھے مت چھونا پلیز "
زوفا گڑگڑا رہی تھی کہ اچانک دور سے کسی کار کی فرنٹ لائٹس کی روشنی آنے لگی ۔
" چل جلدی کہ اس سے پہلے کوئی دیکھ لے "
رکشے والے نے غصے سے زوفا کو گھورا
مگر وہ ان کے بہت قریب آکر رک گئی تھی ۔
کار کا دروازہ کھلا اور کار میں سے طلحہ باہر نکلا ۔ وہ زوفا کا پیچھا کرتا ہوا یہاں آیا تھا ۔
کار سے کسی کو نکلتا دیکھ کر رکشے والا بڑے مؤدب انداز میں زوفا سے مخاطب ہونے لگا
" باجی بس یہ ٹائر بدل دوں پھر آگے چلتے ہیں "
زوفا نے نظر گھما کر پیچھے دیکھا تو اپنے سامنے طلحہ کو پایا ۔
" آ آپ "
زوفا نے طلحہ کو دیکھا
" وو وہ رکشہ خراب ہوگیا ہے "
ڈرتے ہوئی زوفا صرف اتنا ہی کہہ پائی
طلحہ کی آنکھوں میں خون کھول رہا تھا
" رکشہ تو میں اب اس کا خراب کروں گا "
وہ چلایا
رکشے والا ایک دم حیرت سے کھڑا ہوگیا
" صاحب جی بس ٹائر "
ابھی وہ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ طلحہ نے اسے گریبان سے پکڑ لیا
" تیری ہمت کیسے ہوئی کسی تنہا اکیلی لڑکی کو یوں سر راہ اغوا کرنے کی !"
طلحہ نے زور دار گھونسا اسے رسید کیا
اب رکشے والا بھی مقابلے کے لیے تیار ہوچکا تھا ۔
اس کا مقصد خود کو چھڑوانا اور بھاگنا تھا ۔
اس نے طلحہ کو دھکا دیا مگر ہکحہ سنبھل گیا اور اپنی ٹانگ کے سہارے رکشے والے کو اوندھے منہ زمین پر ڈھیر کردیا
زوفا پاس کھڑی روتے ہوئے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی
'' تو کیا سمجھتا ہے کہ کسی بھی لڑکی کو استعمال کر لے گا ۔۔ ارے تیرے جیسے درندوں کی جگہ یہ دنیا نہیں
تیرے جیسے درندوں کو تو جیل میں ہونا چاہیے "
طلحہ نے اس کے بال زور سے کھینچے ۔
اتنی دیر وہیں پولیس کی گاڑی آگئی کیونکہ جب وہ آدمی زوفا کو ویران جگہ پر لے جارہا تھا تبھی طلحہ کو شک ہوگیا تھا کیونکہ وہ راستہ کسی بھی یونیورسٹی یا ہاسٹل کی طرف نہیں جاتا تھا بلکہ گاؤں کی طرف جاتا تھا ۔
پولیس والوں نے اس آدمی کو گرفتار کیا اور لے گئے
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" یار زوفا کمرے میں نہیں ہے "
زوفا کی ساری سہیلیاں ہاسٹل واپس پہنچ چکی تھیں ۔ صبا اور زوفا کا ایک ہی کمرہ تھا ۔ صبا کمرے میں گئی تو وہاں زوفا نہیں تھی ۔ صبا نے آکر اپنی باقی سہیلیوں کو اطلاع دی ۔
" اگر زوفا کمرے میں نہیں تو کہاں ہے ؟"
سب نے حیرت سے کہا
" کہیں وہ بکرا منڈی میں تو نہیں رہ گئی !"
" یا اللہ یہ کیا کردیا ہم نے ؟ ہمیں زوفا کو نہیں لیکر جانا چاہیے تھا "
صبا خود کو قصوروار سمجھنے لگی
پھر وہ سب پریشان ہوکر وہاں بیٹھ گئیں
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" چلیے کار میں بیٹھیے "
پولیس کے جانے کے بعد طلحہ نے کار کا دروازہ کھولا اور زوفا کو اندر بیٹھنے کو کہا
زوفا نے ایک نظر طلحہ کو دیکھا
اسے وہ طلحہ یاد آیا جس نے اس رکشے والے سے اسے بچایا تھا ۔ اسے لڑتا ہوا طلحہ یاد آیا ۔
" لگتا ہے مجھ پر بھروسہ نہیں ۔
مگر اب تو آپ کو میرے ساتھ ہی جانا پڑے گا کیونکہ یہاں آپ کو کوئی رکشہ نہیں ملنے والا "
طلحہ بڑے حوصلے سے کہا
" نن نہیں "
جچکتے ہوئے زوفا بولی
" میں آپ کے ساتھ چلوں گی "
زوفا نے روتے ہوئے کہا
" روئیے مت ۔ آپ کی آنکھوں پر یہ آنسو بالکل بھی اچھے نہیں لگتے "
طلحہ نے کہا تو زوفا نے طلحہ کو دیکھا ۔
اس وقت زوفا کو کسی کے کندھے کی ضرورت تھی ۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے بس طلحہ کے کندھے لگ گئی اور رونے لگی ۔
طلحہ ایک دم حیرت زدہ ہوگیا ۔
لیکن زوفا کا لمس اسے کسی اور ہی دنیا میں لے گیا تھا کیونکہ ایسا احساس نہ آج سے پہلے اس نے کبھی دیکھا تھا نہ سنا تھا اور نہ ہی کبھی محسوس کیا تھا ۔
۔۔۔
تجھ سے پیار ہوا ہے مجھے
دل و جان سے ہوا ہے مجھے
جھکڑا ہے مجھے دھیرے سے
تیری آنکھوں نے ترے چہرے نے
دیکھوں ان کو مڑ مڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
نثار ہوا ہوں میں تجھ پہ
قربان ہوا ہوں میں تجھ پہ
میرا دل اور جان تجھ پہ فدا
نہ ہوؤں میں تم سے اب جدا
چلیں ہر راہ ہم جڑ جڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
۔۔۔۔۔۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" یہ یہاں کک کیوں رک گئے ؟"
راستے میں چلتے ہوئے طلحہ ایک ٹی پوائنٹ پر گاڑی روک دی
ہچکچاتے ہوئے زوفا نے پوچھا
'' یہ ٹی پوائنٹ ہے میں نے آپ کے لیے چائے آرڈر کی ہے بس وہ آتے ہی ہوں گے "
طلحہ نے کہا
" مم مگر اس کی ضرورت نہیں تھی "
" ضرورت تھی ۔ پہلے آپ کافی بھیگ گئی تھیں اور پھر یہ سب ہوگیا "
" پلیز مجھے ہاسٹل جانا ہے بارہ بج چکے ہیں اب وہ مجھے اندر نہیں جانے دیں گے "
زوفا نے سامنے ٹائم دیکھا تو کہنے لگی
" دیکھیے آپ پریشان نہ ہوں ۔ میں آپ کے ہاسٹل والوں سے بات کروں گا ان کو بتاؤں گا آپ کھو گئی تھیں بس اسی وجہ سے دیر ہوگئی "
طلحہ نے اپنا منہ پیچھے موڑ کر کہا
اتنی دیر میں ایک آدمی پیک کی گئی چائے لیکر وہاں آگیا ۔ طلحہ نے چائے وصول کی اور پیسے ادا کیے ۔
" پلیز یہ پی لیجیے "
اس آدمی کے جانے کے بعد طلحہ نے چائے کا ڈبہ زوفا کی طرف بڑھایا
" نن نہیں آپ پلیز مجھے پہنچا دیجئے "
" دیکھیے آپ اگر چائے نہیں پئیں گی تو میں یہاں سے نہیں چلوں گا "
طلحہ نے بھی ضد کی تو مجبوراً زوفا کو چائے لینی پڑی ۔
پھر طلحہ نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی اور پھر ہاسٹل کے آگے جا کر بریک لگائی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
زوفا کی ساری سہیلیاں ہاسٹل کے گیٹ پر جمع تھیں اور چوکیدار سے باہر جانے کی درخواست کررہی تھیں
" پلیز ہماری دوست کھو گئی ہے اور وہیں بکرا منڈی میں رہ گئی "
" دیکھو پتر بکرا منڈی میں لڑکیوں کا کوئی کام نہیں ہوتا تم سب لینے کیا گئی تھیں "
چوکیدار غصے میں تھا
" پلیز انکل یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے "
" تم سب کے گھروں میں فون ملاتا ہوں "
چوکیدار ان کی بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا
اچانک ہاسٹل کے دروازے کے آگے ایک شاندار گاڑی آکر رکی ۔ چوکیدار بھی حیران تھا کہ رات کے اس وقت کون آگیا ۔
گاڑی کا دروازہ کھلا اور زوفا اور طلحہ باہر نکلے ۔
زوفا کو گاڑی سے نکلتا دیکھ کر اس کی ساری سہیلیاں حیرت زدہ رہ گئیں ۔
" لو آگئی تمہاری سہیلی "
چوکیدار نے زوفا کو ایک لڑکے کے ساتھ دیکھا تو طنز سے کہا
" السلام علیکم"
طلحہ نے بڑے ادب سے کہا
" سر یہ محترمہ بھٹک گئیں تھیں اور ان کو نہ رستہ معلوم تھا اور نہ ہی کوئی رکشہ مل رہا تھا ۔ میں گزر رہا تھا تو ان کو یہاں چھوڑ دیا "
طلحہ نے چوکیدار کو تفصیل بتائی
طلحہ نے اتنی شرافت سے کہا کہ چوکیدار کو طلحہ کی بات پر یقین کرنا پڑا اور زوفا کو اندر آنے کی اجازت دینی پڑی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" یار زوفا بتاؤ تو سہی وہ لڑکا کون تھا ؟"
زوفا اور صبا اپنے کمرے میں آگئیں تھیں ۔ زوفا اپنے بستر پر لیٹ گئی تھی اور سارے واقعے کے بارے میں سوچ رہی تھی
" ویسے زوفا تھا بڑا ہینڈسم "
صبا زوفا سے باتوں میں مشغول تھی اور زوفا کہیں اور ہی گم تھی ۔
" زوفا "
صبا نے زوفا کو ہلایا تو وہ اپنے خیالوں سے باہر آئی
" کون تھا وہ لڑکا ؟"
صبا نے کہا تو زوفا مسکرائی
" یہ تو نہیں جانتی ہوں کہ وہ کون تھا مگر جو بھی تھا کسی فرشتے سے کم نہیں تھا "
زوفا مسکرائی
" میں تو اس کی فین ہوگئی ہوں ۔ کتنا ہنڈسم تھا !"
صبا مسکرائی
" پتا نہیں مگر آج جو اس نے کیا ہے میں ساری زندگی اس کی احسان مند رہوں گی "
کہیں کھوئے ہوئے زوفا بولی
پھر زوفا اپنے بستر سے اٹھی اور سٹڈی ٹیبل کی طرف بڑھی
" کیا کرنے لگی ہو ؟"
صبا نے حیرت سے کہا
" کہانی لکھنے لگی ہوں ۔۔۔"
زوفا نے مسکرا کر صبا کو دیکھا
" تمہیں تو کوئی کہانی ہی نہیں بن رہی تھی "
صبا نے کہا
" ہاں مگر اب ایک ایسی کہانی میرے ذہن میں آئی ہے کہ نہ کسی کان نے ایسی کہانی سنی ہوگی اور نہ ہی کسی آنکھ نے دیکھی ہو گی ۔ نہ کسی لب نے پڑھی ہوگی اور نہ ہی کسی قلم نے لکھی ہوگی ۔ "
زوفا مسکرائی اور پھر قلم اور کاغذ پکڑ لیا
" ایسا کیا ہے اس کہانی میں اور وہ کہانی تمہیں بکرا منڈی جا کر ہی کیوں یاد آئی ؟"
صبا نے ہنستے ہوئے کہا
" کیونکہ اس کہانی میں ہیرو اور ہیروئن کی ملاقات نہ کسی ریسٹورنٹ میں ہوگی نہ ہی کسی شاپنگ مال میں اور نہ ہی یونیورسٹی بلکہ وہ دونوں تو ایک بکرا منڈی میں ملیں گے"
زوفا نے مسکراتے ہوئے لکھنا شروع کیا
" تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔۔
نہیں مطلب بکرا منڈی میں کس کو محبت ہوتی ہے ؟"
صبا کھلکھلا کر ہنس دی
" میرے اس ناول کے ہیرو ہیروئن کو "
زوفا مسکرائی اور پھر کہانی لکھنے لگی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" یار کہاں رہ گیا تھا تو کل رات ۔۔ ؟"
طلحہ اگلے دن اپنے دوستوں کے ساتھ کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھا تھا اور باتیں کررہا تھا
" میرا موبائل تمہیں تو پتا تھا گاڑی میں چھوڑ کر گیا تھا اور پھر منڈی میں گم ہوگیا میں "
طلحہ نے اپنے دوستوں کو بتایا
" پھر مجھے وہاں ایک لڑکی ملی جو رستہ بھٹکی ہوئی تھی اور پھر میں نے اسے منڈی سے باہر نکالا "
طلحہ رات کے واقعے میں کھویا ہوا تھا
" تجھے تو ایسے کام خدا دے ۔۔ خدمت خلق کا سارا ٹھیکا تو نے اٹھا رکھا ہے "
طلحہ کے دوست ہنسنے لگے
" معلوم نہیں یہ خدمت خلق تھی یا کچھ اور مگر کل کی رات بہت حسین تھی ۔ اتنی حسین کہ آج تک میں نے کبھی اتنا خوبصورت محسوس نہیں کیا ۔ "
طلحہ کہیں کھویا ہوا تھا ۔
" لگتا ہے بھائی کو عشق ہو گیا ہے "
طلحہ کے دوست اسے چھیڑنے لگے
" عشق تو بہت چھوٹا سا لفظ لگتا ہے مجھے کل کی رات کے لیے ۔ پتا ہے جب سے اس سے دور ہوا ہوں اسی کے بارے میں سوچے جا رہا ہوں "
طلحہ مسکرایا
" ارے بھائی بس کر ۔۔ کہیں کل تک تو ٹوٹا عاشق بن کے شاعر نہ بن جائے "
طلحہ کے دوست اس کا مذاق اڑا رہے تھے
" شعر تو لکھ بھی لیے ہیں ۔ گھر کر یہی تو کرتا رہا ہوں "
طلحہ مسکرایا
" ارشاد ارشاد "
صدا آئی تو طلحہ مسکرائی اور شعر سنانے لگا
"نثار ہوا ہوں میں تجھ پہ
قربان ہوا ہوں میں تجھ پہ
میرا دل اور جان تجھ پہ فدا
نہ ہوؤں میں تم سے اب جدا
چلیں ہر راہ ہم جڑ جڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے "
" لاجواب "
" کمال "
آوازیں بلند ہوئیں
" ویسے یار ایسا کیا ہوا کل کی رات میں "
ایک دوست نے پوچھا
" کل جو ہوا وہ لفظوں میں بیان کیسے کروں ہاں اتنا جان لو
کل میں بکرا منڈی قربانی کے لیے بکرا خریدنے گیا تھا لیکن جب واپس آیا تو خود کسی پر قربان ہو چکا تھا "
طلحہ مسکرایا
آج سے پہلے اس کے دوستوں نے اس کی زبان سے اتنی رومانوی باتیں نہیں سنی تھیں ۔
اس بدلے ہوئی طلحہ پر انہیں دل و جان سے حیرت ہو رہی تھی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" مگر یہ کہانی تو ادھوری ہے "
زوفا اپنی سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں بیٹھی تھی اور انہیں اپنی رات کی کہانی پڑھوا رہی تھی
" ہاں یہ ادھوری ہے مگر اس کا اختتام لازوال ہوگا "
زوفا مسکرائی
" تو کرو نا اس کا اختتام "
صبا نے کہا
" میں نہیں جانتی کہ بکرا منڈی میں اس ہیروئن کو ہونے والی محبت کا انجام کیا رکھوں مگر چاہتی ہوں کہ یہ محبت دو طرفہ ہو اور اس ہیروئین کو اپنی کہانی کا پیرو مل جائے "
زوفا نے کہا تو سب حیرت سے اسے دیکھنے لگے
" زوفا تم پاگل تھی سر پھری تھی مگر اتنی نہیں تھی ۔ کل سے جب سے تم آئی ہو بہت بدل گئی ہو "
صبا نے کہا
" کل رات ہوا ہی کچھ ایسا تھا ۔ میں بھٹک گئی تھی منڈی میں مگر پھر اس نے مجھے راستہ دکھایا میرا ہاتھ تھاما اور"
زوفا نے رات کا مکمل واقعہ سنایا
" تو کیا تمہیں اس لڑکے سے محبت ہوگئی ہے ؟"
" نہیں یہ تو میں نہیں جانتی مگر یہ ضرور جانتی ہوں کہ میری اس کہانی کی ہیروئین کو ہیرو سے محبت ہوگئی ہے ۔ "
زوفا کہیں کھوئی ہوئی تھی ۔
" ویسے زوفا اس کا نمبر شمبر تو لے لیتی ۔۔
نام کیا تھا اس کا ؟"
" اس سب کی کیا ضرورت ہے ؟ جنھیں رب نے ملوانا ہوتا انہیں ملوا ہی دیتا ہے "
زوفا مسکرائی
" اچھا میں چلتی ہوں مجھے اس کہانی کو مکمل کرنا ہے اور میگزین کو ارسال کرنا ہے "
زوفا نے اپنا پرس پکڑا اور وہاں سے چلی گئی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
" تو تم نے کہانی مکمل کر لی ؟"
زوفا یونیورسٹی سے جلدی ہاسٹل آگئی تھی تاکہ اپنی کہانی مکمل کر لے ۔ صبا واپس آئی تو زوفا کو لکھتے پایا
" نہیں میں نہیں مکمل کر پارہی ۔۔
مجھے لگتا ہے میری یہ کہانی ادھوری رہ جائے گی "
زوفا نے ڈائری بند کرکے کہا
" چلو شکر ہے تم نے ہار مانی ۔۔
ورنہ میں تو تمہاری کہانیوں سے تنگ آگئی ہوں "
صبا نے ہنس کر کہا
" ہاں شاید میں یہ کہانی مکمل نہ کر پاؤں اور میری یہ کہانی میرے دل میں ایک آس بن کر ہمیشہ کے لیے ادھوری رہ جائے "
زوفا نے قلم میز پر رکھا
" اچھا کل چھٹیاں ہورہی ہیں ہمیں عید کے لیے تو آج ہم سب نے پارٹی رکھی ہے شام میں ۔ سارے کلاس فیلو ہوں گے ۔ تم بھی چلو نا "
صبا نے کہا
" نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ۔ "
زوفا نے کہا اور اپنے بال آئینے کے آگے کھڑی ہو کر سیٹ کرنے لگی ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨
اگلے دن زوفا نے سارا سامان پیک کیا اور گھر جانے کی مکمل تیاری کی ۔ سہ پہر میں ہی اس کے پاپا نے اسے ہاسٹل سے لینے کے لیے آنا تھا ۔ زوفا اپنے پاپا کا انتظار کررہی تھی کہ سرکار سہ پہر میں وہ زوفا کے بھائی کے ساتھ آ گئے ۔ انہوں نے زوفا کا سامان لادا اور زوفا اپنی سہیلیوں کو الوداع کہہ کر چلی گئی ۔ مگر یہ کیا زوفا کے آبا تو بکرا منڈی کی طرف جا رہے ہیں ۔
" بیٹا ہمارے شہر میں تو اتنے معیاری جانور دستیاب ہی نہیں ہیں ۔ بس اسی لیے ہم نے سوچا ذرا یہاں کی بھی چھان بین کر لی جائے ۔"
زوفا کے آبا نے اسے بتایا اور پھر اسے منڈی کے باہر گاڑی میں چھوڑ کر اس کے ابا اور بھائی منڈی چلے گئے ۔
زوفا گاڑی میں بیٹھی منڈی سے منسلک ان حسین یادوں کو یاد کررہی تھی کہ اچانک اسے ایک طرف طلحہ آتا دکھائی دیا ۔۔
زوفا کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا وہ سمجھی کہ جیسے کوئی خواب دیکھ رہی ہے مگر یہ حقیقت تھی وہ اس کے سامنے تھا
زوفا نے جلدی سے کار کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی ۔ اسی دوران طلحہ کی نظر بھی کار سے نکلتی زوفا پر پڑ گئی ۔ طلحہ بھی حیرت کا پتلا بنے بنا نہ رہ سکا ۔
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
یونیورسٹی کی محبتیں تو سبھی نے سنی ہوں گی ۔ کزنوں کی محبتیں بھی پورے عالم میں مشہور ہیں ۔ راہ چلتوں کی محبتیں ٬ شاپنگ مالز میں محبتیں ٬ ہوائی جہاز میں محبتیں اور یہاں تک پہاڑ کی چوٹی پر ہونے والی پہلی ملاقات سے شروع ہونے والی محبتیں تو سب نے پڑھی سنی ہوں گی مگر یہ ایک ایسی محبت کی کہانی ہے جس کے بارے میں نہ کسی نے پڑھا لکھا نہ سنا کیونکہ یہ محبت ایک ایسی جگہ ہے ہوئی جہاں محبت کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ لوگ محبتیں کرنے اور ان کو منانے ہوٹلوں پر جاتے ہیں اور جا کر خوبصورت لذیذ کھانے کھا کر اپنی محبتوں کو اوج دیتے ہیں مگر یہ محبت ان محبتوں سے بہت مختلف تھی کیونکہ یہ محبت بکرا منڈی میں شروع ہوئی ۔
تحریر لکھتے ہوئے وہ خود ہنس دی ۔ اور پھر اپنا قلم اٹھایا اور لکھنے لگی
ہاں بکرا منڈی میں محبت ۔۔
دنیائے محبت میں ایک ترقی ہوئی تھی اس محبت کی کہانی کے بعد ۔ کیونکہ بکرا منڈی ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں لوگ صرف قربانی کا جانور خریدنے جاتے ہیں محبتیں نہیں کرنے جاتے مگر دیکھ لیجیے اس کہانی کے ہیرو اور ہیروئن کو جن کو بکرا منڈی میں محبت ہوئی ۔
وہ پھر سے ہنسی اور مسکرا کر سامنے لگے آئینے میں دیکھا تو اس کا روشن چہرہ آئینے میں دکھائی دینے لگا ۔ اس کے لمبے گھنے بال چھن چھن کر نیچے گر گئے اور اس کا مکھڑا بہت حسین رخ پیش کرنے لگا ۔
پھر اس نے ڈائری سنڈی میز پر رکھی اور آئینے کے آگے آکر کھڑی ہوگئی ۔
" میری کہانی "
اس نے خود کو ہنستے ہوئے دیکھا
" کسی قلمکار نے آج تک ایسی کہانی نہ سنی ہوگی کہ لکھی ہوگی "
وہ ہنسی اور خود کو آئینے میں دیکھنے لگی ۔
" عید آنے والی تھی اور عید بھی قربانی کی اور تبھی رقم ہوئی یہ کہانی "
وہ مسکرائی اور آئینے میں مسکراتے ہوئے خود کو دیکھنے لگی ۔
جیسے کتاب ماضی کے صفحے پلٹ رہی ہو
" ہم دونوں پہلی بار بکرہ منڈی میں ملے تھے اور تبھی ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی "
وہ مسکرائی اور اپنے کمرے سے ملحق ٹیرس میں آگئی جہاں طلحہ کھڑا چائے پی رہا تھا ۔
اسے دیکھ کر مسکرایا
" زوفا "
وہ مسکرایا تو لہکتی ہوئی زوفا اس کے قریب چلی آئی
" میرے چائے کہاں ہے ؟"
زوفا مسکرائی تو طلحہ نے دوسرے ہاتھ میں تھاما کپ زوفا کی طرف بڑھایا
" یہ چائے کا کپ مجھے اس رات کی یاد دلاتا ہے "
زوفا مسکرائی
" غم زدہ پلوں کو چھوڑتے ہیں اور ان حسین یادوں کو یاد کرتے ہیں "
طلحہ نے مسکرا کر زوفا کا ہاتھ تھاما
" ہاں ان حسین پلوں کو جب ہماری دوسری بات بکرہ منڈی میں ملاقات ہوئی تھی اور تب ہی ہماری کہانی آگے بڑھی تھی "
زوفا مسکرائی
" پتا ہے طلحہ آپ نے تو عید کی شام رشتہ لا کر مجھے اور میرے گھر والوں کو سر پرائز کر دیا تھا "
زوفا مسکرائی
" میں نے تم لوگوں کی گاڑی کا پیچھا کیا تھا اور پھر عید کے دن اپنی امی کے ساتھ تمہارے در پر آ کھڑا ہوا "
طلحہ مسکرایا
" آج ہماری شادی کو ایک سال ہو چکا ہے اور پتا ہے میری زندگی کا یہ سب سے حسین سال تھا اور آج کی عید جو میں آپ کے سنگ منا رہی ہوں "
زوفا مسکرائی
" میرے لیے بھی یہ سال بہت حسین اور خوبصورت رہا ہے اور آج کی عید بھی ۔
آؤ نیچے قربانی کا جانور قربان ہونے کے لیے تیار ہے "
طلحہ نے زوفا کے ماتھے پر آتے بال پیچھے کیے اور پھر وہ دونوں نیچے جانے کے لیے سیڑھیوں کی طرف بڑھے تاکہ قربانی کے جانور کو ذبح کر سکیں ۔
اللہ اکبر ۔۔
طلحہ نے تکبیر پڑھتے ہوئے قربانی کے بکرے کی گردن پر چھری چلا دی اور زوفا کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔
پھر طلحہ اپنے خون سے بھرے ہاتھ لیے زوفا کے پاس آیا
" کیسی لگی ہماری محبت کی پہلی قربانی ؟"
طلحہ نے زوفا کو دیکھ کر کہا
" پہلی نہیں "
زوفا نے طلحہ کے خون سے بھرے ہاتھ تھامے
" محبت تو ہوتی ہی قربانی ہے ۔۔
اصل قربانی تو آپ نے مجھ سے محبت کر کے کی تھی "
زوفا مسکرائی ۔۔
" اور تم نے مجھ سے "
طلحہ نے زوفا کے حسین چہرے کو دیکھا
" آؤ زوفا ہم دونوں مل کر تمہاری اس ادھوری کہانی کو مکمل کرتے ہیں جو ایک برس پہلے تک ادھوری چھوڑ گئی تھی "
طلحہ نے زوفا کو دیکھا
" میری وہ کہانی تو آپ نے مکمل کر دی تھی ۔۔ ہاں مگر قرطاس پر مکمل پرنس باقی ہے "
زوفا مسکرائی اور پھر وہ دونوں مسکراتے ہوئے زوفا کی کہانی مکمل کرنے کے لیے سیڑھیوں کی طرف چلے گئے اور پھر یہ صندلی چڑھتے ہی چلے گئے ۔
قربانی ۔۔۔
یہ لفظ اپنے اندر ایک پوری دنیا رکھتا ہے ۔ اس قربانی کا تعلق محبت سے ہوتا ہے ۔ عشق سے ہوتا ہے ۔ عبادت سے ہوتا ہے اور دل سے ہوتا ہے ۔ جو قربانی یہ جانور ہر عید الاضحیٰ پر دیتے ہیں اور خود کو خدا کے حضور پیش کرتے ہیں ایسی ہی کچھ سچی محبتیں اس روئے عالم پر بھی موجود ہیں اور یہ ساری قربانیاں ایک دوسرے سے منسلک ہیں ۔ ایک دوسرےین سموئے ہوئے ہیں کیونکہ ان سب کی حقیقت تو ایک ہی ہے ۔۔
محبت ۔۔
ہاں محبت ہی قربانی ہے ۔
تجھ سے پیار ہوا ہے مجھے
دل و جان سے ہوا ہے مجھے
جھکڑا ہے مجھے دھیرے سے
تیری آنکھوں نے ترے چہرے نے
دیکھوں ان کو مڑ مڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
نثار ہوا ہوں میں تجھ پہ
قربان ہوا ہوں میں تجھ پہ
میرا دل اور جان تجھ پہ فدا
نہ ہوؤں میں تم سے اب جدا
چلیں ہر راہ ہم جڑ جڑ کر
جب تلک زندگانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
محبت ہی قربانی ہے
About Untwisted Pages
Soratemplates is a blogger resources site is a provider of high quality blogger template with premium looking layout and robust design
Subscribe to:
Post Comments (Atom)



No comments:
Post a Comment